7163 - صحیح بخاری شریف
Sahih Bukhari - Hadees No: 7163
Hadith in Arabic
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ ابْنُ أُخْتِ نَمِرٍ ، أَنَّ حُوَيْطِبَ بْنَ عَبْدِ الْعُزَّى أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ السَّعْدِيِّ أَخْبَرَه ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ فِي خِلَافَتِهِ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : أَلَمْ أُحَدَّثْ أَنَّكَ تَلِيَ مِنْ أَعْمَالِ النَّاسِ أَعْمَالًا ؟ ، فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعُمَالَةَ كَرِهْتَهَا ، فَقُلْتُ : بَلَى ، فَقَالَ عُمَرُ : فَمَا تُرِيدُ إِلَى ذَلِكَ ، قُلْتُ : إِنَّ لِي أَفْرَاسًا وَأَعْبُدًا وَأَنَا بِخَيْرٍ وَأُرِيدُ أَنْ تَكُونَ عُمَالَتِي صَدَقَةً عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، قَالَ عُمَرُ : لَا تَفْعَلْ فَإِنِّي كُنْتُ أَرَدْتُ الَّذِي أَرَدْتَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ فَأَقُولُ أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي ، حَتَّى أَعْطَانِي مَرَّةً مَالًا ، فَقُلْتُ : أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ وَتَصَدَّقْ بِهِ ، فَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ ، فَخُذْهُ وَإِلَّا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ ،
Hadith in Urdu
وہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے زمانہ خلافت میں آئے تو ان سے عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا مجھ سے یہ جو کہا گیا ہے وہ صحیح ہے کہ تمہیں لوگوں کے کام سپرد کئے جاتے ہیں اور جب اس کی تنخواہ دی جاتی ہے تو تم اسے لینا پسند نہیں کرتے؟ میں نے کہا کہ یہ صحیح ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تمہارا اس سے مقصد کیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میرے پاس گھوڑے اور غلام ہیں اور میں خوشحال ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ میری تنخواہ مسلمانوں پر صدقہ ہو جائے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو کیونکہ میں نے بھی اس کا ارادہ کیا تھا جس کا تم نے ارادہ کیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عطا کرتے تھے تو میں عرض کر دیتا تھا کہ اسے مجھ سے زیادہ اس کے ضرورت مند کو عطا فرما دیجئیے۔ آخر آپ نے ایک مرتبہ مجھے مال عطا کیا اور میں نے وہی بات دہرائی کہ اسے ایسے شخص کو دے دیجئیے جو اس کا مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لو اور اس کے مالک بننے کے بعد اس کا صدقہ کرو۔ یہ مال جب تمہیں اس طرح ملے کہ تم اس کے نہ خواہشمند ہو اور نہ اسے مانگا تو اسے لے لیا کرو اور اگر اس طرح نہ ملے تو اس کے پیچھے نہ پڑا کرو۔
Hadith in English
Narrated 'Abdullah bin As-Sa'di: That when he went to 'Umar during his Caliphate. 'Umar said to him, Haven't I been told that you do certain jobs for the people but when you are given payment you refuse to take it? 'Abdullah added: I said, Yes. 'Umar said, Why do you do so? I said, I have horses and slaves and I am living in prosperity and I wish that my payment should be kept as a charitable gift for the Muslims. 'Umar said, Do not do so, for I intended to do the same as you do. Allah's Apostles used to give me gifts and I used to say to him, 'Give it to a more needy one than me.' Once he gave me some money and I said, 'Give it to a more needy person than me,' whereupon the Prophet said, 'Take it and keep it in your possession and then give it in charity. Take what ever comes to you of this money if you are not keen to have it and not asking for it; otherwise (i.e., if it does not come to you) do not seek to have it yourself.' .
- Book Name Sahih Bukhari
- Baab (17) CHAPTER. The salaries of rulers and those employed to administer the funds.
- Kitab THE BOOK OF AL-AHKAM (Judgements).
- Takhreej وقال الحسن أخذ الله على الحكام أن لا يتبعوا الهوى ، ولا يخشوا الناس { ولا تشتروا بآياتي ثمنا قليلا} ثم قرأ { يا داود إنا جعلناك خليفة في الأرض فاحكم بين الناس بالحق ولا تتبع الهوى فيضلك عن سبيل الله إن الذين يضلون عن سبيل الله لهم عذاب شديد بما نسوا يوم الحساب} ، وقرأ { إنا أنزلنا التوراة فيها هدى ونور يحكم بها النبيون الذين أسلموا للذين هادوا والربانيون والأحبار بما استحفظوا ـ استودعوا ـ من كتاب الله وكانوا عليه شهداء فلا تخشوا الناس واخشون ولا تشتروا بآياتي ثمنا قليلا ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الكافرون} ، وقرأ { وداود وسليمان إذ يحكمان في الحرث إذ نفشت فيه غنم القوم وكنا لحكمهم شاهدين * ففهمناها سليمان وكلا آتينا حكما وعلما} ، فحمد سليمان ولم يلم داود ، ولولا ما ذكر الله من أمر هذين لرأيت أن القضاة هلكوا ، فإنه أثنى على هذا بعلمه وعذر هذا باجتهاده. وقال مزاحم بن زفر قال لنا عمر بن عبد العزيز خمس إذا أخطأ القاضي منهن خصلة كانت فيه وصمة أن يكون فهما ، حليما ، عفيفا ، صليبا ، عالما سئولا عن العلم. وكان شريح القاضي يأخذ على القضاء أجرا. وقالت عائشة يأكل الوصي بقدر عمالته ، وأكل أبو بكر وعمر.