نہ تیرنے کے ہنر سے واقف نہ ہم ہیں پختہ سفینے والے

na terny ky hunar sy waqif na ham hain pukhta safeeny waly

نہ تیرنے کے ہنر سے واقف نہ ہم ہیں پختہ سفینے والے


نہ تیرنے کے ہنر سے واقف نہ ہم ہیں پختہ سفینے والے

تری شفاعت کے آسرے پر رواں دواں ہیں مدینے والے



ستم تو یہ ہے مرے پیمبر فقط یہ حلیے کی ورزشیں ہیں

وگرنہ ایسے دکھائ دیتے تری اطاعت میں جینے والے



درود گوئ کا سلسلہ تو فقط بہانہ بنا ہوا ہے

اکٹھے ہوتے ہیں روز جامِ رخِ منور کو پینے والے



جوسوچتے تھے دیا جلائے بنا خریدیں گے روشنی کو

مجھے بتاؤ مرے عزیزو کہاں گئے وہ خزینے والے



نبی سے سیکھا ہوا ہے ہم نے عداوتوں کو شکست دینا

محبتوں کے سخن ہمارے نہ بغض والے نہ کینے والے

na terny ky hunar sy waqif na ham hain pukhta safeeny waly

.

Popular Tags

na terny ky hunar sy waqif na ham hain pukhta safeeny waly lyrics,
Read na terny ky hunar sy waqif na ham hain pukhta safeeny waly naat lyrics,
Readna terny ky hunar sy waqif na ham hain pukhta safeeny waly online