3447 - سنن أبي داوٴد
Sunnan e Abu Dawood - Hadees No: 3447
Hadith in Arabic
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ أَبِي مَعْمَرٍ أَحَدِ بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَحْتَكِرُ إِلَّا خَاطِئٌ ، فَقُلْتُ لِسَعِيدٍ: فَإِنَّكَ تَحْتَكِرُ، قَالَ: وَمَعْمَرٌ كَانَ يَحْتَكِرُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَسَأَلْتُ أَحْمَدَ، مَا الْحُكْرَةُ ؟ قَالَ: مَا فِيهِ عَيْشُ النَّاسِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: الْمُحْتَكِرُ مَنْ يَعْتَرِضُ السُّوقَ.
Hadith in Urdu
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھاؤ بڑھانے کے لیے احتکار ( ذخیرہ اندوزی ) وہی کرتا ہے جو خطاکار ہو ۔ محمد بن عمرو کہتے ہیں: میں نے سعید بن مسیب سے کہا: آپ تو احتکار کرتے ہیں، انہوں نے کہا: معمر بھی احتکار کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے امام احمد سے پوچھا: حکرہ کیا ہے؟ ( یعنی احتکار کا اطلاق کس چیز پر ہو گا ) انہوں نے کہا: جس پر لوگوں کی زندگی موقوف ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اوزاعی کہتے ہیں: احتکار ( ذخیرہ اندوزی ) کرنے والا وہ ہے جو بازار کے آڑے آئے یعنی اس کے لیے رکاوٹ بنے۔
Hadith in English
Narrated Mamar bin Abi Mamar, one of the children of Adi bin Kab: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: No one withholds goods till their price rises but a sinner. I said to Saeed (b. al-Musayyab): You withhold goods till their price rises. He said: Mamar used to withhold goods till their price rose. Abu Dawud said: I asked Ahmad (b. Hanbal): What is hoarding (hukrah) ? He replied: That on which people live. Abu Dawud said: Al-Auzai said: A muhtakir (one who hoards) is one who withholds supply of goods in the market. .
Reference : Sunan Abi Dawud 3447 In-book reference : Book 24, Hadith 32 English translation : Book 23, Hadith 3440
- Book Name Sunnan e Abu Dawood
- Hadees Status صحیح
- Baab CHAPTER: Regarding The Prohibition Of Hoarding.
- Kitab Wages (Kitab Al-Ijarah)
- Takhreej تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساقاة ۲۶ (۱۶۰۵)، سنن الترمذی/البیوع ۴۰ (۱۲۶۷)، سنن ابن ماجہ/التجارات ۶ (۲۱۵۴)، (تحفة الأشراف: ۱۱۴۸۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/ ۴۵۳، ۶/۴۰۰)، سنن الدارمی/البیوع ۱۲ (۲۵۸۵)