207 - سنن أبي داوٴد
Sunnan e Abu Dawood - Hadees No: 207
Hadith in Arabic
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَرَهُ أَنْ يَسْأَلَ لَهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ إِذَا دَنَا مِنْ أَهْلِهِ فَخَرَجَ مِنْهُ الْمَذْيُ، مَاذَا عَلَيْهِ ؟، فَإِنَّ عِنْدِي ابْنَتَهُ وَأَنَا أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَهُ، قَالَ الْمِقْدَادُ: فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ، فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ .
Hadith in Urdu
علی رضی اللہ عنہ نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اپنے لیے ) یہ مسئلہ پوچھنے کا حکم دیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس جائے اور مذی نکل آئے تو کیا کرے؟ ( انہوں نے کہا ) چونکہ میرے نکاح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ( فاطمہ رضی اللہ عنہا ) ہیں، اس لیے مجھے آپ سے یہ مسئلہ پوچھنے میں شرم آتی ہے۔ مقداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں نے جا کر پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اسے پائے تو اپنی شرمگاہ کو دھو ڈالے اور وضو کرے جیسے نماز کے لیے وضو کرتا ہے ۔
Hadith in English
Narrated Al-Miqdad ibn al-Aswad: Ali ibn Abu Talib commanded him to ask the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم what a man should do when he wants to have intercourse with his wife and the prostatic fluid comes out (at this moment). (He said): I am ashamed of consulting him because of the position of his daughter. Al-Miqdad said: I asked the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم about it. He said: When any of you finds, he should wash his private part, and perform ablution as he does for prayer. .
Reference : Sunan Abi Dawud 207 In-book reference : Book 1, Hadith 207 English translation : Book 1, Hadith 207
- Book Name Sunnan e Abu Dawood
- Hadees Status صحیح
- Baab CHAPTER: On Pre-Seminal Fluid (Madhi)..
- Kitab Purification (Kitab Al-Taharah)
- Takhreej تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الطہارة ۱۱۲ (۱۵۶)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ۷۰ (۵۰۵)، (تحفة الأشراف: ۱۱۵۴۴)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطہارة ۸۳ (۱۵۶)، موطا امام مالک/الطہارة ۱۳ (۵۳)، مسند احمد (۶/۴، ۵) (صحیح)