132 - سنن أبي داوٴد
Sunnan e Abu Dawood - Hadees No: 132
Hadith in Arabic
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ رَأْسَهُ مَرَّةً وَاحِدَةً حَتَّى بَلَغَ الْقَذَالَ وَهُوَ أَوَّلُ الْقَفَا ، وَقَالَ مُسَدَّدٌ: مَسَحَ رَأْسَهُ مِنْ مُقَدَّمِهِ إِلَى مُؤَخَّرِهِ حَتَّى أَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ تَحْتِ أُذُنَيْهِ، قَالَ مُسَدَّدٌ: فَحَدَّثْتُ بِهِ يَحْيَى فَأَنْكَرَهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وسَمِعْت أَحْمَدَ يَقُولُ: إِنَّ ابْنَ عُيَيْنَةَ زَعَمُوا أَنَّهُ كَانَ يُنْكِرُهُ وَيَقُولُ: إِيشْ هَذَا طَلْحَةُ ؟ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ.
Hadith in Urdu
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سر کا ایک بار مسح کرتے دیکھا یہاں تک کہ یہ «قذال» ( گردن کے سرے ) تک پہنچا۔ مسدد کی روایت میں یوں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگلے حصہ سے پچھلے حصہ تک اپنے سر کا مسح کیا یہاں تک کہ اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں کے نیچے سے نکالا۔ مسدد کہتے ہیں: تو میں نے اسے یحییٰ ( یحییٰ بن سعید القطان ) سے بیان کیا تو آپ نے اسے منکر کہا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد ( احمد بن حنبل ) کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ لوگوں کا کہنا ہے کہ ( سفیان ) ابن عیینہ ( بھی ) اس حدیث کو منکر گردانتے تھے اور کہتے تھے کہ «طلحة عن أبيه عن جده» کیا چیز ہے؟
Hadith in English
Narrated Talhah ibn Musarrif: I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم wiping his head once up to his nape. Musaddad reported: He wiped his head from front to back until he moved his hands from beneath the ears. Abu Dawud said: I heard Ahmad say: People thought that Ibn Uyainah had considered it to be munkar (rejected) and said: What is this chain: Talhah - his father - his grandfather ? .
Reference : Sunan Abi Dawud 132 In-book reference : Book 1, Hadith 132 English translation : Book 1, Hadith 132
- Book Name Sunnan e Abu Dawood
- Hadees Status ضعیف
- Baab CHAPTER: The Manner of The Prophet’s Wudu’..
- Kitab Purification (Kitab Al-Taharah)
- Takhreej تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف: ۱۱۱۲۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۴۸۱) (ضعیف) (اس کا راوی مصرف مجہول ہے اور لیث بن أبی سلیم ضعیف ہے)