107 - سنن أبي داوٴد
Sunnan e Abu Dawood - Hadees No: 107
Hadith in Arabic
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَرْدَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي حُمْرَانُ، قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ تَوَضَّأَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْمَضْمَضَةَ وَالِاسْتِنْشَاقَ، وَقَالَ فِيهِ: وَمَسَحَ رَأْسَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ هَكَذَا، وَقَالَ: مَنْ تَوَضَّأَ دُونَ هَذَا كَفَاهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَمْرَ الصَّلَاةِ.
Hadith in Urdu
میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے دیکھا، پھر اس حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی، مگر کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا تذکرہ نہیں کیا، حمران نے کہا: عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے سر کا تین بار مسح کیا پھر دونوں پاؤں تین بار دھوئے، اس کے بعد آپ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اس سے کم وضو کرے گا ( یعنی ایک ایک یا دو دو بار اعضاء دھوئے گا ) تو بھی کافی ہے ، یہاں پر نماز کے معاملہ کا ذکر نہیں کیا۔
Hadith in English
Humran said: I saw Uthman bin Affan performing ablution. He then narrated the same tradition. In this version there is no mention of rinsing the mouth and snuffing up water. This traditions adds: “He wiped his head three times. He then washed his feet three times. He then said: I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم performing ablution in like manner. He (the Prophet) said: He who performs ablution less than this, it is sufficient for him. 73The narrator did not mention prayer (in this version). .
Reference : Sunan Abi Dawud 107 In-book reference : Book 1, Hadith 107 English translation : Book 1, Hadith 107
- Book Name Sunnan e Abu Dawood
- Hadees Status صحیح
- Baab CHAPTER: The Manner of The Prophet’s Wudu’..
- Kitab Purification (Kitab Al-Taharah)
- Takhreej تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۹۷۹۹) (حسن صحیح) (سر کے تین بار مسح کی روایت شاذ ہے، جیسا کہ آگے تفصیل آ رہی ہے)