632 - مسند احمد
Musnad Ahmed - Hadees No: 632
Hadith in Arabic
۔ (۶۳۲)۔عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعبَۃَؓوَقَد سُئِلَ: ہَل أَمَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رَجُلٌ مِنْ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ غَیْرُ أَبِی بَکْرٍؓ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، کُنَّا فِی سَفَرِ کَذَا وَکَذَا، (وَفِی رِوَایَۃٍ: فِی غَزْوَۃِ تَبُوْکَ) فَلَمَّا کَانَ مِنَ السَّحَرِ ضَرَبَ عُنُقَ رَاحِلَتِہِ وَانْطَلَقَ فَتَبِعْتُہُ فَتَغَیَّبَ عَنِّیْ سَاعَۃً ثُمَّ جَائَ فَقَالَ: ((حَاجَتُکَ؟)) فَقُلْتُ: لَیْسَ لِیْ حَاجَۃٌ یَا رَسُولَ اللّٰہِ، قَالَ: ((ہَلْ مِن مَّائٍ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، فَصَبَبْتُ عَلَیْہِ فَغَسَلَ یَدَیْہِ ثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ ثُمَّ ذَہَبَ یَحْسُرُ عَنْ ذِرَاعَیْہِ وَکَانَتْ عَلَیْہِ جُبَّۃٌ شَامِیَّۃٌ فَضَاقَتْ فَأَدْخَلَ یَدَیْہِ فَأَخْرَجَہُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّۃِ فَغَسَلَ وَجْہَہُ وَغَسَلَ ذِرَاعَیْہِ وَمَسَحَ بِنَاصِیَتِہِ وَمَسَحَ عَلٰی العِمَامَۃِ وَعَلٰی الْخُفَّیْنِ ثُمَّ لَحِقْنَا النَّاسَ وَقَدْ أُقِیْمَتِ الصَّلَوۃُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ یَؤُمُّہُمْ وَقَدْ صَلّٰی رَکْعَۃً فَذَہَبْتُ لِأُوذِنَہُ فَنَہَانِیْ فَصَلَّیْنَا الَّتِیْ أَدْرَکْنَا، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: الرَّکْعَۃَ الَّتِیْ أَدْرَکْنَا) وَقَضَیْنَا الَّتِیْ سُبِقْنَا بِہَا (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَقَضَیْنَا الرَّکْعَۃَ الَّتِی سُبِقْنَا)۔ (مسند أحمد: ۱۸۳۱۴)
Hadith in Urdu
سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ سے مروی ہے کہ کسی نے ان سے یہ سوال کیا کہ کیا اس امت میں سے سیدنا ابو بکرؓ کے علاوہ بھی کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امامت کرائی ہے انھوں نے کہا: جی ہاں، ہم غزوۂ تبوک کے موقع پر سفرمیں تھے، جب سحری کا وقت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سواری کی گردن پر مارا اور چل پڑے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے ہو لیا، کچھ وقت تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے غائب رہے اور پھر واپس آ گئے اور مجھ سے فرمایا: کوئی ضرورت ہے؟ میں نے کہا: جی کوئی ضرورت نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا پانی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پانی بہایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ دھوئے،پھر چہرہ دھویا، پھر اپنے بازوؤں سے کپڑا پیچھے کرنے لگے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شامی جبّہ پہنا ہوا تھا، اس کے بازو تنگ ہو گئے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بازو اندر سے باہر نکال لیے اور اپنا چہرہ اور بازو دھوئے، پھر پیشانی اور پگڑی پر اور موزوں پر مسح کیا، پھر جب ہم لوگوں تک پہنچے تو نماز کھڑی کی جا چکی تھی اور سیدنا عبدالرحمن بن عوفؓ نماز پڑھا رہے تھے اور ایک رکعت پڑھا چکے تھے، میں ان کو بتلانے کے لیے جانے لگا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے منع کر دیا، پھرجو نماز ہمیں مل گئی، ہم نے ادا کر لی اور جو رہ گئی اس کو بعد میں پورا کر لیا۔
Hadith in English
.
- Book Name Musnad Ahmed
- Hadees Status صحیح
- Takhreej (۶۳۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷۴ (انظر: ۱۸۱۳۴)