12227 - مسند احمد

Musnad Ahmed - Hadees No: 12227

Hadith in Arabic

۔ (۱۲۲۲۷)۔ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ اَبِیْ طَلْحَۃَ الْیَعْمُرِیِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَامَ عَلَی الْمِنْبَرِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ، ثُمَّ ذَکَرَ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَذَکَرَ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، ثُمَّ قَالَ: رَأَیْتُ رُؤْیَا، لَا أُرَاہَا إِلَّا لِحُضُورِ أَجَلِی، رَأَیْتُ کَأَنَّ دِیکًا نَقَرَنِی نَقْرَتَیْنِ، قَالَ: وَذَکَرَ لِی أَنَّہُ دِیکٌ أَحْمَرُ، فَقَصَصْتُہَا عَلَی أَسْمَائَ بِنْتِ عُمَیْسٍ، امْرَأَۃِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا، فَقَالَتْ: یَقْتُلُکَ رَجُلٌ مِنَ الْعَجَمِ، قَالَ: وَإِنَّ النَّاسَ یَأْمُرُونَنِی أَنْ أَسْتَخْلِفَ، وَإِنَّ اللّٰہَ لَمْ یَکُنْ لِیُضَیِّعَ دِینَہُ وَخِلَافَتَہُ الَّتِی بَعَثَ بِہَا نَبِیَّہُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ یَعْجَلْ بِی أَمْرٌ فَإِنَّ الشُّورٰی فِی ہٰؤُلَائِ السِّتَّۃِ الَّذِینَ مَاتَ نَبِیُّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ عَنْہُمْ رَاضٍ، فَمَنْ بَایَعْتُمْ مِنْہُمْ فَاسْمَعُوا لَہُ وَأَطِیعُوا، وَإِنِّی أَعْلَمُ أَنَّ أُنَاسًا سَیَطْعَنُونَ فِی ہٰذَا الْأَمْرِ، أَنَا قَاتَلْتُہُمْ بِیَدِی ہٰذِہِ عَلَی الْإِسْلَامِ، أُولَئِکَ أَعْدَائُ اللّٰہِ الْکُفَّارُ الضُّلَّالُ، وَایْمُ اللّٰہِ! مَا أَتْرُکُ فِیمَا عَہِدَ إِلَیَّ رَبِّی فَاسْتَخْلَفَنِی شَیْئًا أَہَمَّ إِلَیَّ مِنَ الْکَلَالَۃِ، وَایْمُ اللّٰہِ! مَا أَغْلَظَ لِی نَبِیُّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی شَیْئٍ مُنْذُ صَحِبْتُہُ أَشَدَّ مَا أَغْلَظَ لِی فِی شَأْنِ الْکَلَالَۃِ حَتّٰی طَعَنَ بِإِصْبَعِہِ فِی صَدْرِی، وَقَالَ: تَکْفِیکَ آیَۃُ الصَّیْفِ الَّتِی نَزَلَتْ فِی آخِرِ سُورَۃِ النِّسَائِ، وَإِنِّی إِنْ أَعِشْ فَسَأَقْضِی فِیہَا بِقَضَائٍ یَعْلَمُہُ مَنْ یَقْرَأُ وَمَنْ لَا یَقْرَأُ، وَإِنِّی أُشْہِدُ اللّٰہَ عَلٰی أُمَرَائِ الْأَمْصَارِ، إِنِّی إِنَّمَا بَعَثْتُہُمْ لِیُعَلِّمُوا النَّاسَ دِینَہُمْ وَیُبَیِّنُوا لَہُمْ سُنَّۃَ نَبِیِّہِمْ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَیَرْفَعُوا إِلَیَّ مَا عُمِّیَ عَلَیْہِمْ، ثُمَّ إِنَّکُمْ أَیُّہَا النَّاسُ! تَأْکُلُونَ مِنْ شَجَرَتَیْنِ لَا أُرَاہُمَا إِلَّا خَبِیثَتَیْنِ ہٰذَا الثُّومُ وَالْبَصَلُ، وَایْمُ اللّٰہِ! لَقَدْ کُنْتُ أَرٰی نَبِیَّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَجِدُ رِیحَہُمَا مِنَ الرَّجُلِ فَیَأْمُرُ بِہِ فَیُؤْخَذُ بِیَدِہِ فَیُخْرَجُ بِہِ مِنَ الْمَسْجِدِ حَتّٰییُؤْتٰی بِہِ الْبَقِیعَ، فَمَنْ أَکَلَہُمَا لَا بُدَّ فَلْیُمِتْہُمَا طَبْخًا۔ قَالَ: فَخَطَبَ النَّاسَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَأُصِیبَیَوْمَ الْأَرْبِعَائِ۔ (مسند احمد: ۸۹)

Hadith in Urdu

معبد بن ابی طلحہ یعمری سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جمعہ کے دن منبر پر کھڑے ہوئے،ا للہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی۔ اس کے بعد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ کیا اور پھر کہا: میں نے ایک خواب دیکھا ہے، میرے خیال میں اس کی تعبیر یہ ہے کہ اب میری وفا ت کا وقت قریب آچکا ہے، میں نے دیکھا ہے کہ ایک سرخ مرغ نے مجھے دو ٹھونگیں ماری ہیں، جب میں نے یہ خواب سیدہ اسماء بنت عمیس زوجہ ابی بکر رضی اللہ عنہ کے سامنے بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ کوئی عجمی آدمی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو قتل کرے گا ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : لوگ مجھے کہتے ہیں کہ میں کسی کو اپنا خلیفہ مقرر کر دوں ، یاد رکھو کہ اللہ نے اپنے نبی کو جس دین اور خلافت کے ساتھ مبعوث کیا ہے ، وہ اس کو ضائع نہیں کرے گا ، اگر میری موت جلد آ جائے تو یہ چھ حضرات کی ایک مجلس شوریٰ ہے ، جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سب سے راضی تھے ، تم ان میں سے جس کی بھی بیعت کر لو تو اس کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا ، میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ کچھ لوگ اس معاملے میں تعن و تشنیع کریں گے ، میں اپنے ان ہاتھوں سے ان لوگوں سے اسلام پر قتال کر چکا ہوں ، ایسے لوگ اللہ کے دشمن ، کافر اور گمراہ ہیں ۔ اللہ کی قسم ! میرے رب نے مجھے جو حکم دیئے اور مجھے خلیفہ بنایا ، میں ان میں سے کلالہ سے زیادہ اہم کوئی بات چھوڑ کر نہیں جا رہا ۔ اللہ کی قسم ! میں جب سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں آیا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے ساتھ جس قدر سختی کے ساتھ کلالہ کے بارے میں گفتگو کی ، اس قدر سخت انداز کسی دوسری بات کے بارے میں اختیار نہیں کیا ۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلی مبارک میرے سینے پر ماری اور فرمایا : اس بارے میں تمہارے لیے سورۂ نساء کے اواخر والی آیت کافی ہے ، جو موسم گرما میں نازل ہوئی تھی ۔ میں اگر زندہ رہا تو اس مسئلہ کی بابت ایسا فیصلہ کروں گا ، جسے خواندہ اور ناخواندہ ، سب لوگ اچھی طرح جان لیں گے ، میں مختلف علاقوں میں بھیجے ہوئے اپنے عاملوں اور نمائندوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے ان کو اس لیے بھیجا تھا کہ وہ لوگوں کو دین سکھائیں اور انہیں نبی کی سنت کی تعلیم دیں اور جو معاملہ ان پر اچھی طرح واضح نہ ہو ، وہ مجھ تک پہنچائیں ۔ لوگو ! تم دو پودے یعنی لہسن اور پیاز کھاتے ہو ، میں انہیں انتہائی ناپسند خیال کرتا ہوں ، اللہ کی قسم ! میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کرتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی آدمی سے ان کی بو پاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بارے میں حکم دیتے اور اس آدمی کو پکڑ کر مسجد سے نکال کر بقیع قبرستان کی طرف پہنچا دیا جاتا تھا ۔ جس آدمی نے لامحالہ طور پر ان پودوں کو کھانا ہو تو وہ ان کو پکا لیا کرے ۔ معبد کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے روز لوگوں سے یہ خطاب کیا تھا اور بدھ کے روز آپ رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ ہو گیا تھا ۔

Hadith in English

.

Previous

No.12227 to 13341

Next
  • Book Name Musnad Ahmed
  • Hadees Status صحیح
  • Takhreej (۱۲۲۲۷) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، اخرجہ البزار: ۳۱۵، وابویعلی: ۲۵۶، وابوعوانۃ: ۱/ ۴۰۸، وابن حبان: ۲۰۹۱ (انظر: ۸۹)