10920 - مسند احمد
Musnad Ahmed - Hadees No: 10920
Hadith in Arabic
۔ (۱۰۹۲۰)۔ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ أَنَّ مَرْوَانَ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَۃَ أَخْبَرَاہُ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَامَ حِینَ جَائَہُ وَفْدُ ہَوَازِنَ مُسْلِمِینَ، فَسَأَلُوا أَنْ یَرُدَّ إِلَیْہِمْ أَمْوَالَہُمْ وَسَبْیَہُمْ، فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((مَعِی مَنْ تَرَوْنَ وَأَحَبُّ الْحَدِیثِ إِلَیَّ أَصْدَقُہُ، فَاخْتَارُوا إِحْدَی الطَّائِفَتَیْنِ إِمَّا السَّبْیُ وَإِمَّا الْمَالُ، وَقَدْ کُنْتُ اسْتَأْنَیْتُ بِکُمْ۔)) وَکَانَ أَنْظَرَہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِضْعَ عَشْرَۃَ لَیْلَۃً حِینَ قَفَلَ مِنَ الطَّائِفِ، فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہُمْ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غَیْرُ رَادٍّ إِلَیْہِمْ إِلَّا إِحْدَی الطَّائِفَتَیْنِ، قَالُوا: فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْیَنَا فَقَامَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِی الْمُسْلِمِینَ فَأَثْنٰی عَلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا ہُوَ أَہْلُہُ ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ إِخْوَانَکُمْ قَدْ جَائُ وْا تَائِبِینَ، وَإِنِّی قَدْ رَأَیْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَیْہِمْ سَبْیَہُمْ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْکُمْ أَنْ یُطَیِّبَ ذٰلِکَ فَلْیَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ مِنْکُمْ أَنْ یَکُونَ عَلٰی حَظِّہِ حَتَّی نُعْطِیَہُ إِیَّاہُ مِنْ أَوَّلِ مَا یُفِیئُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَیْنَا فَلْیَفْعَلْ۔)) فَقَالَ النَّاسُ: قَدْ طَیَّبْنَا ذٰلِکَ لِرَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((إِنَّا لَا نَدْرِی مَنْ أَذِنَ مِنْکُمْ فِی ذٰلِکَ مِمَّنْ لَمْ یَأْذَنْ، فَارْجِعُوا حَتّٰییَرْفَعَ إِلَیْنَا عُرَفَاؤُکُمْ أَمْرَکُمْ۔)) فَجَمَعَ النَّاسُ فَکَلَّمَہُمْ عُرَفَاؤُہُمْ ثُمَّ رَجَعُوا إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَأَخْبَرُوہُ أَنَّہُمْ قَدْ طَیَّبُوا وَأَذِنُوا، ہٰذَا الَّذِی بَلَغَنِی عَنْ سَبْیِ ہَوَازِنَ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۲۱)
Hadith in Urdu
عروہ بن زبیر سے مروی ہے کہ سیدنا مروان اور سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما نے اسے خبردی کہ جب ہوازن کا وفد مسلمان ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے اموال اور قیدی واپس لوٹا دیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم دیکھ رہے ہو کہ میرے ساتھ کتنے لوگ ہیں، سچی بات کرنا مجھے بہت اچھا لگتا ہے، لہٰذا تم قیدیوںیا مال میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کرو، میں اس سے پہلے تمہیں کچھ مہلت دے چکا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طائف سے واپسی پر انہیں دس سے زائد راتوں کی مہلت دی تھی،یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنا عرصہ ان کا انتظار کرتے رہے، جب انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو دو میں سے کوئی ایک چیز ہی واپس کریں گے، تو انہوں نے کہا: ہم اپنے قیدیوں کا انتخاب کرتے ہیں کہ وہ ہمیں واپس کر دئیے جائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلمانوں میں کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی ان الفاظ کے ساتھ حمد وثناء بیان کی جس کا حقدار ہے اور پھر فرمایا: تمہارےیہ بھائی تائب ہو کر آئے ہیں، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں ان کے قیدیوں کو ان کے حوالے کر دوں، تم میں سے جو کوئی خوشی سے ایسا کرنا چاہیے تو کرلے اور تم میں سے جو اپنا حصہ لینا چاہتا ہو تو ہمارے پاس سب سے پہلے جو مالِ فے آئے گا، ہم اس سے ان کو حصہ ادا کر دیں گے، جو کوئی ایسا کرنا چاہتا ہو وہ ایسے کر لے۔ لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم بھی بخوشی ایسا ہی کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ہمیں پتہ نہیں چل رہا کہ تم میں سے کس نے اس بات کی اجازت دی ہے اور کس نے نہیں دی، تم لوگ واپس جاؤ اور تمہاری طرف سے تمہارے نمائندے ہمارے پاس آکر تمہاری بات پہنچائیں گے۔ ان نمائندوں نے لوگوں کو جمع کر کے ان سے گفتگو کی، انہوں نے آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر دی کہ انہوں نے بخوشی اس کی اجازت دے دی ہے۔ عروہ نے کہا کہ ہوازن کے قیدیوں کے متعلق مجھے یہ حدیث پہنچی۔
Hadith in English
.
- Book Name Musnad Ahmed
- Hadees Status صحیح
- Takhreej (۱۰۹۲۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۳۰۷، ۲۳۰۸، ۲۵۳۹، ۲۵۸۳، ۲۶۰۸، ۳۱۳۱، ۴۳۱۸ (انظر: ۱۸۹۱۴)