10887 - مسند احمد
Musnad Ahmed - Hadees No: 10887
Hadith in Arabic
۔ (۱۰۸۸۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: لَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مَکَّۃَ عَامَ الْفَتْحِ، قَامَ فِی النَّاسِ خَطِیبًا، فَقَالَ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ! إِنَّہُ مَا کَانَ مِنْ حِلْفٍ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ، فَإِنَّ الْإِسْلَامَ لَمْ یَزِدْہُ إِلَّا شِدَّۃً، وَلَا حِلْفَ فِی الْإِسْلَامِ، (فِیْ رِوَایَۃٍ: وَلَا تُحْدِثُوْا حِلْفًا فِی الْاِسْلَامِ) وَفِیْ رِوَایَۃٍ: (وَلاہِجْرَۃَ بَعْدَ الْفَتْحِ)، وَالْمُسْلِمُونَ یَدٌ عَلٰی مَنْ سِوَاہُمْ، تَکَافَأُ دِمَاؤُہُمْ، یُجِیرُ عَلَیْہِمْ أَدْنَاہُمْ، وَیَرُدُّ عَلَیْہِمْ أَقْصَاہُمْ، تُرَدُّ سَرَایَاہُمْ عَلٰی قَعَدِہِمْ، لَا یُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِکَافِرٍ، دِیَۃُ الْکَافِرِ نِصْفُ دِیَۃِ الْمُسْلِمِ، لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ، وَلَا تُؤْخَذُ صَدَقَاتُہُمْ إِلَّا فِی دِیَارِہِمْ۔))۔ (مسند احمد: ۶۶۹۲)
Hadith in Urdu
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے سال جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو خطبہ ارشاد فرمانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! قبل از اسلام کے ایسے معاہدے جن کی رو سے معاہدہ کرنے والے ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیںتو اسلام ایسے معاہدوں کو مزید مضبوط کرتا ہے، البتہ اب اسلام میں کسی ایسے نئے معاہدہ کی ضرورت نہیں کہ ہم ایک دوسرے کے حلیف ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں گے۔ ایک روایت میںیوں ہے کہ تم اسلام میں ایسا کوئی نیا معاہدہ نہ کرو۔ ایک اور روایت میں یہ بھی ہے کہ مکہ فتح ہو جانے کے بعد اب یہاں سے ہجرت نہیں کی جا سکتی، اور تمام مسلمان کفار کے مقابلے میں ایک ہاتھ کی مانند ہیںاور ان سب کے خون( یعنی ان کی حرمت) برابر ہے، مسلمانوں کا ادنیٰ آدمی بھی کسی دشمن کو پناہ دے تو یہ تمام مسلمانوں کی طرف سے سمجھی جائے گی اور جہاد میں حاصل ہونے والا مالِ غنیمت مسلمانوں میں تقسیم ہو گا خواہ وہ بہت دور ہی کیوں نہ ہو اور جہاد کے قیدی ان لوگوں میں بھی تقسیم کئے جائیں گے، جو گھروں میں بیٹھے رہے اور میدانِ جہاد میںعملی طور پر شریک نہ ہو سکے اور کسی مومن کو کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جا سکتا، کافر کی دیت مسلم کے مقابلے میں نصف ہے، کوئی مسلمان سرکاری اہل کار زکوۃ وصولی کے لیے جائے تو اسے یہ روا نہیں کہ وہ کسی ایک جگہ قیام کر کے لوگوں سے کہے کہ تم اپنے اپنے تمام جانوروں کو میرے پاس لے کر آؤ تاکہ میں ان کا حساب کر کے زکوۃ وصول کر وں، اس طرح ان لوگوں کو مشقت ہو گی اور یہ بھی جائز نہیں کہ سرکاری اہل کار زکوۃ وصول کرنے کے لیے لوگوں کی قیام گاہوں پر جائے تو وہ زکوۃ سے بچنے کے لیے اِدھر اُدھر ہو جائیںاور لوگوں سے ان کی زکوتیں ان کے گھروں یا قیام گاہوں پر ہی وصول کی جائیں۔
Hadith in English
.
- Book Name Musnad Ahmed
- Hadees Status صحیح
- Takhreej (۱۰۸۸۷) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الترمذی: ۱۵۸۵ (انظر: ۶۶۹۲)