10809 - مسند احمد

Musnad Ahmed - Hadees No: 10809

Hadith in Arabic

۔ (۱۰۸۰۹)۔ قَالَ حَدَّثَنِی مَکِّیُّ بْنُ إِبْرَاہِیمَ قَالَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ أَبِی عُبَیْدٍ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الْأَکْوَعِ، أَنَّہُ أَخْبَرَہُ قَالَ، خَرَجْتُ مِنَ الْمَدِینَۃِ ذَاہِبًا نَحْوَ الْغَابَۃِ حَتّٰی إِذَا کُنْتُ بِثَنِیَّۃِ الْغَابَۃِ، لَقِیَنِی غُلَامٌ لِعَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قُلْتُ: وَیْحَکَ! مَا لَکَ؟ قَالَ: أُخِذَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قُلْتُ: مَنْ أَخَذَہَا؟ قَالَ: غَطَفَانُ وفَزَارَۃُ، قَالَ: فَصَرَخْتُ ثَلَاثَ صَرَخَاتٍ أَسْمَعْتُ مَنْ بَیْنَ لَابَتَیْہَا،یَا صَبَاحَاہْ! یَا صَبَاحَاہْ! ثُمَّ انْدَفَعْتُ حَتّٰی أَلْقَاہُمْ وَقَدْ أَخَذُوہَا، قَالَ: فَجَعَلْتُ أَرْمِیہِمْ وَأَقُولُ: أَنَا ابْنُ الْأَکْوَعِ وَالْیَوْمُیَوْمُ الرُّضَعِ، قَالَ: فَاسْتَنْقَذْتُہَا مِنْہُمْ قَبْلَ أَنْ یَشْرَبُوا، فَأَقْبَلْتُ بِہَا أَسُوقُہَا فَلَقِیَنِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ الْقَوْمَ عِطَاشٌ وَإِنِّی أَعْجَلْتُہُمْ قَبْلَ أَنْ یَشْرَبُوا فَاذْہَبْ فِی أَثَرِہِمْ، فَقَالَ: ((یَا ابْنَ الْأَکْوَعِ! مَلَکْتَ فَأَسْجِحْ إِنَّ الْقَوْمَ یُقْرَوْنَ فِی قَوْمِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۶۶۲۸)

Hadith in Urdu

یزید بن ابی عبید سے مروی ہے کہ سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو بتلایا کہ میں غابہ کی طرف جانے کے لیے مدینہ منورہ سے روانہ ہوا، جب میں غابہ کی گھاٹییا راستہ میں تھا تو مجھ سے سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لڑکے کی ملاقات ہوئی، میں نے کہا تیرا بھلا ہو، تجھے کیاہوا ہے؟ وہ بولا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اونٹنیوں کو لوٹ لیا گیا ہے، میں نے پوچھا: کس نے لوٹی ہیں؟ اس نے بتایا کہ غطفان اور فزارہ کے لوگوں نے، سیدنا سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: یہ سن کر میں نے بلند آواز سے تین بار یَا صَبَاحَاہ کی آواز دی،یہ آواز اس قدر اونچی اور تیز تھی کہ میں نے مدینہ کے دو حرّوں کے مابین لوگوں تک پہنچادی، پھر میں ان لوگوں کے پیچھے دوڑ پڑا، تاآنکہ میں نے ان کو جا لیا، وہ ان اونٹنیوں کو اپنے قبضے میں لے چکے تھے۔ میں ان پر تیر برسانے لگا اور میں یہ رجز پڑھتا جا تا تھا: أَنَا ابْنُ الْأَکْوَعِ وَالْیَوْمُیَوْمُ الرُّضَعِ (میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے)۔ سیدنا سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:قبل اس کے کہ وہ کہیں جا کر پانی پیتے میں نے اونٹنیوں کو ان سے چھڑوا لیا۔ میں اونٹنیوں کو لے کر واپس ہوا اوررسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے میری ملاقات ہوئی۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ لوگ ابھی تک پیاسے ہیں اور میں ان کے پانی پینے سے پہلے پہلے ان تک پہنچ گیا، آپ ان کے پیچھے تشریف لے چلیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابن اکوع! تو نے ان پر غلبہ پالیا اب نرمی کر، ان کی قوم میں ان کی ضیافت کی جا رہی ہے۔

Hadith in English

.

Previous

No.10809 to 13341

Next
  • Book Name Musnad Ahmed
  • Hadees Status صحیح
  • Takhreej (۱۰۸۰۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۰۴۱، ومسلم: ۱۸۰۶ (انظر: ۱۶۵۱۳)