6156 - مشکوۃالمصابیح
Mishkat ul Masabeeh - Hadees No: 6156
Hadith in Arabic
إِلَّا الْجُمْلَة الْأَخِيرَة فصحيحة) وَعَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ أَنَّ الْعَبَّاسَ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا وَأَنَا عِنْدَهُ فَقَالَ: «مَا أَغْضَبَكَ؟» قَالَ: يَا رَسُول الله مَا لَنَا وَلِقُرَيْشٍ إِذَا تَلَاقَوْا بَيْنَهُمْ تَلَاقَوْا بِوُجُوهٍ مُبْشَرَةٍ وَإِذَا لَقُونَا لَقُونَا بِغَيْرِ ذَلِكَ؟ فَغَضِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ ثُمَّ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الْإِيمَانُ حَتَّى يحبكم لله وَلِرَسُولِهِ» ثمَّ قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ آذَى عَمِّي فَقَدْ آذَانِي فَإِنَّمَا عَمُّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَفِي «المصابيح» عَن الْمطلب
Hadith in Urdu
عبد المطلب بن ربیعہ سے روایت ہے کہ عباس ؓ غصے کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، میں اس وقت آپ کے پاس ہی تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ آپ کو کس نے ناراض کیا ؟‘‘ انہوں نے فرمایا : اللہ کے رسول ! ہمارا (بنو ہاشم) اور باقی قریشیوں کا کیا معاملہ ہے ؟ جب وہ آپس میں ملتے ہیں تو بڑی خندہ پیشانی سے ملتے ہیں ، اور جب ہم سے ملتے ہیں تو اس طرح نہیں ملتے ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی غصے میں آ گئے حتیٰ کہ آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! کسی شخص کے دل میں ایمان داخل نہیں ہو سکتا حتیٰ کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی خاطر تم سے محبت کرے ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ لوگو ! جس نے میرے چچا کو اذیت پہنچائی اس نے مجھے اذیت پہنچائی ، آدمی کا چچا اس کے باپ کے مانند ہوتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور مصابیح میں مطلب سے مروی ہے ۔ رواہ الترمذی ۔
Hadith in English
.
Previous
No.6156 to 5945
- Book Name Mishkat ul Masabeeh
- Hadees Status ضعیف
- Kitab كتاب المناقب
- Takhreej اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (3758 وقال : حسن صحیح) * فیہ یزید بن ابی زیاد : ضعیف مشھور ۔