سلطان قطب الدین ایبک

Sultn Qutbuddin Aibak

سلطان قطب الدین ایبک

برصغیر کا پہلا مسلمان بادشاه جس نے دہلی میں اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی جو دہلی سلطنت کے نام سے مشہور ہوا۔ نسلاً ترک تھے۔ ایک سوداگر اس کو ترکستان سے خرید کر نیشا پور لے آیا اور قاضی فخرالدین عبدالعزیز کے ہاتھوں فروخت کردیا۔ جس نے ان کو سلطان شہاب الدین غوری کی خدمت میں پیش کیا۔ سلطان نے کثیر رقم دے کر انہیں خرید لیا۔ شکل و صورت قبیح ہونے علاوه ایک چھنگلیا بھی ٹوٹی ہوئی تھی۔ اس لیے لوگ ان کو ایبک شل (خستہ انگشت) کہتے تھے۔ قطب الدین نے رفتہ رفتہ اپنی صلاحیتوں کا سکہ سلطان پر بٹھا کر اس کا قرب حاصل کر لیا۔ 1192ء میں سلطان محمد غوری نے دہلی اور اجمیر فتح کرکے قطب الدین کو ان کا گورنر مقرر کیا۔ اگلے سال سلطان نے قنوج پر چڑھائی کی۔

اس جنگ میں قطب الدین ایبک نے اپنی وفا داری اور سپہ گری کا ایسا ثبوت دیا کہ سلطان نے اس کو فرزند بنا کر فرمان فرزندی اور سفید ہاتھی عطا کیا۔ قطب الدین کا ستاره اقبال چمکتا گیا۔ اور اسکی فوجیں گجرات، راجپوتانہ، گنگا جمنا کے دوآبہ، بہار اور بنگال میں نصرت کا پرچم لہراتی ہوئی داخل ہوئیں ۔ جب سلطان محمد غوری 15 مارچ 1206ء کو جہلم کے قریب، گکھڑوں کے ہاتھوں مارا گیا تو ایبک نے جون 1206ء کو لاہور میں اپنی تخت نشینی کا اعلان کر دیا۔


قطب الدین ایبک کی گورنری کا زمانہ فتوحات میں گزرا تھا۔ تخت پر بیٹھ کر اس نے امور سلطنت پر توجہ دی۔ اس کا بیشتر وقت نوزائیده اسلامی سلطنت میں امن و امان قائم رکھنے میں گزرا۔ عالموں کا قدر دان تھا۔ اور اپنی فیاضی اور دادودہش کی وجہ سے تاریخ میں لکھ بخش کے نام سے مشہور ہے۔ نومبر 1210ء میں لاہور میں چوگان (پولو) کھیلتے ہوئے گھوڑے سے گر کر راہی ملک عدم ہوا اور انار کلی کے ایک کوچے (ایبک روڈ) میں دفن ہوا۔


یہ مقبره وقت اور حالات کے ہاتھوں برباد ہوتارہا. یہاں تک کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں یہ ایک سکھ کی ملکیت میں رہا انگریزوں کے دور میں یہ مقبره خستہ حالی کی منہ بولتی تصویر تھا قیام پاکستان کے بعد صدر ایوب خان کے دور میں محترم حفیظ جالندھری نے ان سے گذارش کی کہ مجاہد اسلام کے مقبره کی مرمت اور تزئین وآرائش کا بندوبست کروایا جائے صدر پاکستان نے ان کی درخواست قبول کی اور آج یہ مقبره مجاہد اسلام کی شان وشوکت سنبھالے کھڑا ہے۔

Sohaib Aslam ج