صبر کرنے کا حکم قرآن کریم اور احادیث کی روشنی میں
Sabar Krny ka Hukam
قرآن پاک میں ارشاد باری تعالی ہ
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ (153 وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِنْ لَا تَشْعُرُونَ (154) وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ (155) الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (156) أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ (157) (سورہ بقرہ آیت نمبر ۱۵۳ تا ۱۵۷)
ترجمہ
اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو ، بےشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ،اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے جاتے ہیں ان کو مردہ نہ کہو ،بلکہ وہ زندہ ہیں پر تمہیں شعور نہیں،اور ہم ضرور تم کو کچھ خوف ،بھوک اور تمہارے مال و جان اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کو بشارت دیجئے جن کو جب کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں کے بیشک ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور بے شک ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی طرف سے بہ کثرت صلوۃ اور رحمت نازل ہوتی ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔
قرآن پاک میں ارشاد باری تعالی ھے
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (200) (سورہ آل عمران آیت نمبر ۲۰۰)
ترجمہ
(اے ایمان والو صبر کرو اور ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرو۔)
اس آیت مبارکہ سے صبر کرنا لازم آتا ہے اور صبر کرنا ہر مسلمان پر فرض ہو جاتا ہے اور جب کسی امر کو فرض قرار دیا جاتا ہے تو اس کی ضد حرام ہو جاتی ہے
قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ھے
إِنَّ الْإِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا (19) إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا (20) وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا (21) إِلَّا الْمُصَلِّينَ (22) الَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ (23) (سورہ معارج آیت نمبر ۱۹ تا ۲۳)
ترجمہ
بے شک انسان کم حوصلہ پیدا کیا گیا ہے جب اس پر مصیبت آتی ہے تو جزع فزع )بے صبری کا اظہار( کرتا ہے اور جب اس کو نعمت ملتی ہے تو اس کو روک کر رکھنے لگتا ہے مگر وہ لوگ جو نمازی ہیں اپنی نمازوں پر ہمیشگی کرتے ہیں۔
یہ آیت مبارکہ نفسیات انسانی کی بہترین عکاس ہے کیوں کہ درحقیقت انسان کی فطرت میں ناشکری شامل ہے لیکن مسلمان کو ایک عام انسان پریہ فوقیت حاصل ہے کہ مومن کی خصلت ہے کہ وہ صبر کرتا ہے جب کہ کافر اس کے برخلاف عمل کرتا ہے ایک نماز پڑھنے والے مومن کی شان صبر کو اختیار کرنا ھے
قرآن کریم میں ارشاد ھے
وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ إِلَّا بِاللَّهِ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ (سورہ نحل آیت نمبر ۱۲۷)
ترجمہ
(اور آپ صبر کریں اور آپ کو صبر اللہ کی توفیق سے ہی حاصل ہوگا ،اور آپ ان پر غمگین نہ ہوں۔)
قرآن کریم میں ارشاد ہے
مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ (22) لِكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَى مَا فَاتَكُمْ( سورہ حدید آیت نمبر ۲۲ تا ۲۳)
ترجمہ
(زمین میں کوئی مصیبت پہنچتی ہے نہ تمہاری جانوں پر مگر ایک کتاب میں )لکھی ہوئی(ہے،اس سے پہلے کہ ہم اس مصیبت کو پیدا کریں ،بےشک یہ اللہ پر بہت ہی آسان ہے یہ اس لئے کہ کوئی چیز تمہارے ہاتھ سے جاتی رہے تو غم نہ کرو اور جو کچھ اللہ نے تمہیں دیا ہے اس پر اترایا نہ کرو.)
یہ آیت مبارکہ ہمیں بنیادی عقائد کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے اور تقدیر کے بنیادی عقیدے پر روشنی ڈالتے ہوے ہمیں یہ بات سمجھاتی ہے کہ ہر خیر اور شر کے خالق اللہ رب العزت ہیں اور انسان کے ساتھ جو کچھ اس دار فانی میں وقع پذیر ہونا ہے سب کچھ لوح محفوظ پر تحریر ہے یہ بات سمجھانے کے بعد اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ جو مصیبت آتی ہے وہ منجانب اللہ ہوتی ہے اس پر ہمیں افسوس اور خود کو ایذا سے منع اور صبر کی تلقین کی گئی ہے
قرآن کریم میں ارشاد ھے
فَأَثَابَكُمْ غَمًّا بِغَمٍّ لِكَيْلَا تَحْزَنُوا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلَا مَا أَصَابَكُمْ (سورہ آل عمران آیت نمبر ۱۵۳)
ترجمہ
(تو تمہیں غم پر غم دیا کہ جو تمہارے ہاتھ سے چلا گیا اور جو مصیبت تمہیں پہنچی ہے اس پر تم غم نہ کرو)
اس آیت سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ کسی مصیبت کے آنے پر یا کوئی تکلیف پہنچنے پر غمگین ہونا یا آہ و زاری کرنا اللہ رب العزت کی واضح اور کھلی نا فرمانی اور نا شکری کی دلیل ہے
قران کریم کی واضح آیات کے بعد کچھ منتخب احادیث کی روشنی میں
حدیث مبارکہ۔
حَدَّثَنِا ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح وَعَنْ سُفْيَانَ عَنْ زُبَيْدٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ وَشَقَّ الْجُيُوبَ وَدَعَا بِدَعْوَی الْجَاهِلِيَّةِ (صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 738 )
ترجمہ
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص اپنے رخساروں کو پیٹے اور گریبان پھاڑے اور جاہلیت کے لوگوں کی طرح گفتگو کرے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
حدیث مبارکہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَا أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا صَخْرَةَ يَذْکُرُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ وَأَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَی قَالَا أُغْمِيَ عَلَی أَبِي مُوسَی وَأَقْبَلَتْ امْرَأَتُهُ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ تَصِيحُ بِرَنَّةٍ قَالَا ثُمَّ أَفَاقَ قَالَ أَلَمْ تَعْلَمِي وَکَانَ يُحَدِّثُهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنَا بَرِيئٌ مِمَّنْ حَلَقَ وَسَلَقَ وَخَرَقَ (صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 288 )
ترجمہ
ابوموسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوموسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر مرض کی شدت کی وجہ سے غشی طاری ہوگئی تو ان کی اہلیہ ام عبداللہ چلاّ اٹھیں حضرت ابوموسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب افاقہ ہوا تو فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس سے بری ہوں جو بطور غم و آہوزاری بال منڈوائے اور چلاّ کر روئے اور کپڑے پھاڑے۔
حدیث مبارکہ
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ح و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَی أَنَّ زَيْدًا حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَلَّامٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا مَالِکٍ الْأَشْعَرِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرْبَعٌ فِي أُمَّتِي مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَتْرُکُونَهُنَّ الْفَخْرُ فِي الْأَحْسَابِ وَالطَّعْنُ فِي الْأَنْسَابِ وَالْاسْتِسْقَائُ بِالنُّجُومِ وَالنِّيَاحَةُ وَقَالَ النَّائِحَةُ إِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِهَا تُقَامُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَيْهَا سِرْبَالٌ مِنْ قَطِرَانٍ وَدِرْعٌ مِنْ جَرَبٍ (صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 2154 )
ترجمہ
حضرت ابومالک اشعری سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا چار باتیں میری امت میں زمانہ جاہلیت کی ایسی ہیں کہ وہ ان کو نہ چھوڑیں گے۔ اپنے حسب پر فخر اور نسب پر طعن کرنا، ستاروں سے پانی کا طلب کرنا، اور نوحہ کرنا فرمایا نوحہ کرنے والی اگر اپنی موت سے پہلے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن اس حال میں اٹھے گی کہ اس پر گندھک کا کرتا اور زنگ کی چادر ہو گی۔
اللہ ہم سب کو صبر کرنے کی توفیق دے اور اپنی حفظ و امان میں رکھے اور ہم پر وہی آًزمائش دے کہ جسے برداشت کرنے کی ہم میں ہمت اور سکت ہو
Sohaib Aslam
ج