رسول ﷺ کا قیدیوں سے حسن سلوک

Mohammad PBUH

نبی اکرمﷺ کے زمانے میں خطہ عرب اور خاص طور پر حجاز میں قید خانوں کا رواج نہیں تھا اور نہ ہی ایسے حالات تھے کہ کسی کو طویل عرصہ قید کیا جاتا۔ اسلام میں باقاعدہ قید خانے کی ابتدا ء حضرت عمرؓ نے کی۔ انہوں نے صفوان بن امیہ کا گھر چار ہزا ردرہم میں خرید کر اسے قید خانہ بنایا۔ اس میں مختلف قیدی بند کئے جاتے تھے۔ پھر حضرت علی ؓ نے قید خانہ بنوایا۔ اور اس کا نام نافع رکھا، لیکن یہ کوئی مضبوط قلعہ نہیں تھا۔ اس لیے بعض قیدی اس سے بھاگ جاتے تھے۔ بعد میں اسے دوبارہ تعمیر کرایا جو مضبوط تھا، جس سے قیدیوں کے فرار کی صورت نہیں تھی۔ تاہم جو لوگ وقتی طور پر گرفتار ہوکر آتے انہیں روکے رکھنے کے لیے عارضی طور پر یا تو مسجد کے ستونوں سے باندھ دیا جاتا یا مختلف صحابہ کرام ؓ کے حوالے کردیا جاتا جو ان کی نگرانی اور دیکھ بھال کے ساتھ ان کے خوردو نوش ارو دیگر ضروریات کا بندوبست کرتے۔ جاہلی نظام میں جنگی قیدی فاتح کے رحم و کرم پر ہوتے تھے ، ان پر ظلم توڑے جاتے تھے، ان سے بدسلوکی کی جاتی اور ان کو غلامی میں ڈال دیا جاتا ان کے کھانے کے لیے ان سے بھیک منگوائی جاتی، آج کے مہذب دور میں بھی جنگی قیدیوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک روا رکھا جاتا ہے وہ گوانتا نامو بے اور پل چرخی افغانستان اور اس کے قید خانوں سے واضح ہوتا ہے۔

نبیﷺ نے جنگی قیدیوں کو نیا مرتبہ دیا، چنانچہ بدر کے قیدی جو تاریخ مدینہ میں پہلی مرتبہ زیادہ تعداد میں قید ہوئے تھے، ان کے بارے میں ہدایت کی گئی کہ قیدیوں کو نہایت آرام سے رکھا جائے۔ بعض صحابہؓ نے اس کی تعمیل میں خود کھجوریں کھا کر اپنے ذمے آئے ہوئے قیدیوں کو پیٹ بھر کر اچھا کھانا کھلایا۔ ایک بدری قیدی ابوعزیر (مصعب بن عمیر کے بھائی) کا بیان ہے کہ جن انصاریوں کے ہاں مجھے رکھا گیا تھا، وہ خود کھجوروں پر گزر کرتے اور مجھے اچھا کھانا لا کر دیتے۔ اس سلوک کی وجہ سے میں سخت شرمسار ہوتا۔ جن اسیروں کے پاس لباس کم تھا، ان کو کپڑے دئیے گئے۔

 

حضرت عباسؓ کے بدن پر لمبے قد کی وجہ سے کوئی کرتہ پورا نہ اترتا تھا، لہٰذا ان کے لیے عبدالله بن ابی ؓ نے کرتہ بھجوایا۔ ان قیدیوں میں سہیل بن عمرو بھی تھا جو اپنا پورا زورِ بیان اور فصاحت حضورﷺ کے خلاف تقریریں کرنے میں صرف کرتا تھا۔ حضرت عمر ؓ نے مشورہ دیا کہ اس کے سامنے کے دانت اکھڑ وادئیے جائیں، تاکہ جو ش خطابت نہ دکھا سکے، کوئی اور ہوتا تو اپنے بے بس قیدی کے ساتھ بدترین سلوک کرنے میں تأمل نہ کرتا، لیکن رحمت عالمﷺ نے فرمایا کہ اگر میں اس کے کسی حصہ بدن کو بگاڑ دوں (مثلہ کروں) تو میرے نبی ہونے کے باوجود الله تعالیٰ سزا کے طور پر میرے اس حصے کو بگاڑ دے گا۔

ثمامہ بن آثال نامی نجد کے سردار کو گرفتار کر کے مدینہ منورہ لایا گیا تو آپﷺ نے اسے مسجد کے ایک ستون سے بندھوا دیا۔ یہ تین دن تک اس سے بندھے رہے۔ آپ بذاتِ خود اس کی دیکھ بھال کرتے اور اس کی خیریت پوچھتے اور گفتگو کرتے۔ وہ کہتا کہ حضور مجھے آزاد کردیں گے تو مجھ پر احسان کریں گے اور اگر قتل کریں کے تو ایک مجرم کو قتل کریں گے۔ آخر تیسرے روز آپ ﷺ نے اسے آزاد کرنے کا حکم دے دیا، وہ آزاد ہوتے ہی مدینے کے قریب ایک تالاب پر گیا، نہا دھو کر پاک صاف ہو کر آپ کی خدمت میں آیا اور کلمہ پڑھ کر حلقہٴ اسلام میں داخل ہوگیا۔ اپنے وطن واپس جا کر قریش سے کہلا بھیجا کہ اب یمن کی طرف تمہارا تجارتی قافلہ نہیں آ سکتا، اس لیے کہ میں مسلمان ہوچکا ہوں اور اسلام اور مسلمانوں کا دفاع کروں گا اور تمہاری کوئی حمایت نہیں کروں گا۔ یہ سب کچھ آپ ﷺ کے اسیروں کے ساتھ حسن سلوک، رواداری، تحمل مزاجی اور عفو درگزر کرنے کی وجہ سے ہوا۔

اسیرانِ جنگ کے ساتھ حسن سلوک اور مساوات کے سلسلے کا وہ عظیم واقعہ بھی تاریخ اسلام کا شہ پارہ اور مسلمانوں کے لیے اسوہٴ حسنہ ہے جب بدر کے قیدی گرفتار کرکے لائے گئے تو ان کے ہاتھ ان کی پیٹھ پر سخت کس کر باندھے ہوئے تھے۔ جس کی وجہ سے ان کو تکلیف ہو رہی تھی۔ پہلی رات کو انہیں مسجد نبوی کے صحن یا اس کے قریب رکھا گیا تھا۔ چنانچہ حضرت عباس ؓ  تکلیف کی وجہ سے کراہ رہے تھے جب ان کی آواز آپﷺ کے کانوں میں پڑی تو کراہنے کی وجہ دریافت کی صحابہ ؓنے عرض کیا کہ رسیوں کی سخت بندش کی وجہ سے ایسے ہو رہا ہے۔ اس پر آپﷺ نے حکم دیا کہ چچا عباس کے ساتھ تمام دوسرے قیدیوں کی بھی رسیاں ڈھیلی اور نرم کر دی جائیں۔

یہ رحمت عالمﷺ کی قیدیوں پر شفقت اور عنایت، پھر مساوات کہ اپنے چچا اور تمام اسیروں کے ساتھ یکساں برتاوٴ و رویہ برتا جا رہا ہے ۔بدر میں کفار جس ارادے سے آئے تھے اور مسلمانوں کے خلاف جو سخت جذبات و خیالات رکھتے تھے اور مسلمانوں کا قلع قمع کرنے کا عزم رکھتے تھے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ ان کے عزائم و جرائم کی وجہ سے وہ قتل کے لائق تھے۔ الله تعالیٰ کی طرف سے اس کی اجازت تھی۔ حضرت عمرؓ کی رائے بھی یہی تھی لیکن آپ ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ کی رائے پر عمل کرتے ہوئے ان قیدیوں سے فدیہ لے کر آزاد کردیا، جن کے پاس مالی فدیہ نہیں تھا، ان سے مسلمانوں کے دس، دس بچوں کو پڑھانے کے عوض رہا کردیا۔

 

Sohaib Aslam ج